ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، فریقین کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری

ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، فریقین کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے مبینہ ڈرون حملے کو “بے ہودہ خلاف ورزی” قرار دیا ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ “تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا”۔تفصیلات کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب سوئٹزرلینڈ میں دونوں فریقین کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پہلا بڑا واقعہ سامنے آیا۔امریکی حکام نے ایران پر آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا، جس کے جواب میں امریکہ نے متعدد اہداف پر حملے کیے۔ اس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ فائرنگ کا تبادلہ 17 جون کے معاہدے کے بعد پہلا بڑا واقعہ ہے، جس نے آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزرگاہ کے محفوظ استعمال سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ اس کی کارروائیاں ایرانی میزائل، ڈرون اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئیں، جو ان کے مطابق تجارتی جہاز رانی پر حملوں اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب تھیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق جنوبی ساحلی شہر سیرک میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر مزید جارحیت کی گئی تو ردعمل مزید وسیع ہوگا۔دوسری جانب اس کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ آبنائے ہرمز میں بحری راستوں کی بحالی کی توقعات بتائی جا رہی ہیں۔

© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.