جنوبی لبنان سے انخلا اور لبنانی فوج کے مکمل کنٹرول کی شقیں سامنے آگئیں
بیروت( مانیٹرنگ ڈیسک) لبنان اور اسرائیل کے درمیان مبینہ 14 نکاتی فریم ورک معاہدے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق لبنانی فوج پر لازم ہوگا کہ وہ پورے ملک پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کرے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی فوج کے کچھ لڑاکا بریگیڈز واپس بلائے گا۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں فوجی نفری کم کی جائے گی، جبکہ بعض بریگیڈز کو واپس بلا کر ان کی تیاری کو دوبارہ بہتر بنایا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق جلد ہی غزہ اور جنوبی لبنان میں تعینات بریگیڈز کے درمیان تبادلے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔العربیہ اور الحدث کو موصول تفصیلات کے مطابق معاہدے میں یہ نکتہ شامل ہے کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کے غیر مسلح ہونے کی تصدیق کے بعد لبنانی مسلح افواج پورے لبنان میں اپنا مکمل اختیار بحال کریں گی، جس کے بعد اسرائیلی فوج مرحلہ وار انخلا کرے گی۔معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لبنان کی سیکیورٹی اور دفاع کی ذمہ داری صرف ریاستی سکیورٹی فورسز کے پاس ہوگی، اور جنگ و امن کے فیصلے بھی وہی کریں گی۔ اس کے ساتھ یہ شق بھی شامل ہے کہ اگر اسرائیل پر کسی مسلح گروہ کی جانب سے حملہ ہوتا ہے تو اسے جواب دینے کا حق حاصل ہوگا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔لبنانی ذرائع کے مطابق اس فریم ورک میں واضح طور پر مرحلہ وار انخلا کی بات کی گئی ہے اور اس میں کسی مستقل اسرائیلی فوجی موجودگی کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ذرائع نے مزید کہا کہ لبنانی فوج کی تعیناتی کسی بیرونی اجازت کی محتاج نہیں ہوگی، جبکہ تجرباتی یا مشترکہ انتظامی علاقوں کا قیام باہمی رضامندی سے ہوگا، نہ کہ یکطرفہ فیصلے سے۔