یو این آر ڈبلیو اے کو مالی بحران کا سامنا، اقوام متحدہ نے 100 ملین ڈالر کی اپیل کر دی
نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی یو این آر ڈبلیو اے کے لیے 100 ملین ڈالر کی مالی کمی کو فوری طور پر پورا کریں، کیونکہ فنڈنگ کی شدید کمی کے باعث ادارے کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رضاکارانہ مالی تعاون سے متعلق خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں پابندیوں اور مالی بحران کے باعث یو این آر ڈبلیو اے کی صورتحال روز بروز سنگین ہوتی جا رہی ہے، جس سے اس کی امدادی خدمات متاثر ہو رہی ہیں۔یو این آر ڈبلیو اے غزہ، مغربی کنارے، لبنان، اردن اور شام میں لاکھوں فلسطینیوں کو خوراک، تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور پناہ گاہ کی سہولتیں فراہم کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکا ماضی میں اس ادارے کا سب سے بڑا عطیہ دہندہ تھا، تاہم 7 اکتوبر 2023 کے بعد بعض الزامات کے تناظر میں اس نے جنوری 2024 میں فنڈنگ معطل کر دی تھی۔ اسی طرح سویڈن سمیت کئی ممالک نے بھی عارضی طور پر امداد روک دی تھی، اگرچہ بعد ازاں متعدد ممالک نے دوبارہ تعاون بحال کر دیا۔انتونیو گوتریس نے خبردار کیا کہ فنڈز کی کمی کے باعث یو این آر ڈبلیو اے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے، جبکہ جنرل اسمبلی نے حال ہی میں اس کے مینڈیٹ کی تجدید بھی کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے اب تک غزہ میں ادارے کے تقریباً 390 اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ جنگ بندی کے بعد بھی سیکڑوں فلسطینی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔سیکرٹری جنرل کے مطابق فنڈنگ میں کمی کے باعث ادارے نے اپنی خدمات کے اوقات میں 20 فیصد کمی کی ہے، مقامی عملے کی تنخواہیں کم کی گئی ہیں اور بین الاقوامی اسٹاف کی کئی آسامیاں خالی رکھی گئی ہیں۔انہوں نے سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر مالی بحران مزید بڑھا تو یو این آر ڈبلیو اے اپنی بنیادی ذمہ داریاں بھی جاری رکھنے سے قاصر ہو سکتا ہے۔