امریکہ اور ایران کشیدگی کے بعد ایرانی دفاعی صلاحیتوں پر نئی بحث
واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور دوحہ مذاکرات کے بعد ایک بار پھر ایران کی فوجی اور دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے سوالات سامنے آ گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران کے دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں میزائل لانچرز، ایئر ڈیفنس سسٹمز اور دفاعی صنعتی تنصیبات کا بڑا حصہ متاثر یا غیر فعال ہو چکا ہے۔ بعض غیر مصدقہ اندازوں کے مطابق ایران کی مجموعی دفاعی صلاحیتوں کا 80 فیصد سے زائد حصہ متاثر ہونے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔تاہم ان رپورٹس کے باوجود یہ واضح کیا گیا ہے کہ ایران کا مکمل عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر منہدم نہیں ہوا۔ مبینہ طور پر پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورکس کا بڑا حصہ اب بھی فعال ہے اور کچھ مقامات پر انہیں دوبارہ فعال کرنے کا عمل جاری ہے۔سیٹلائٹ تصاویر اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے متاثرہ دفاعی تنصیبات کی مرمت کا عمل تیزی سے شروع کر دیا ہے، جبکہ بعض مقامات پر دوبارہ پیداوار بھی بحال ہونے کی اطلاعات ہیں۔کچھ امریکی ذرائع کے مطابق ایران کی ڈرون پیداوار جنگ کے بعد دوبارہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی محدود مگر مؤثر عسکری صلاحیتیں موجود ہیں، جن میں ڈرون ٹیکنالوجی، زیر زمین میزائل سسٹمز اور بحیرہ عمان و آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی صلاحیت شامل ہے۔مبصرین کے مطابق ان دعوؤں اور جوابی اقدامات نے خطے میں دفاعی توازن اور مستقبل کی سیکیورٹی صورتحال پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔