ترکیہ چاند اور مریخ کی پرامن تحقیق کیلئے آرٹیمس معاہدے میں شامل
استنبول( تر کیہ خبر) ترکیہ نے ناسا کے آرٹیمس معاہدے میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ چاند، مریخ اور خلا کے دیگر مقامات کی پرامن، شفاف اور باہمی تعاون پر مبنی تحقیق کے عالمی فریم ورک پر دستخط کرنے والا 71واں ملک بن گیا ہے۔ترکیہ کے وزیر صنعت و ٹیکنالوجی محمد فاتح کاجیر نے پیر کو واشنگٹن میں ناسا کے صدر دفتر میں منعقدہ تقریب کے دوران ملک کی جانب سے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب کی میزبانی ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے کی۔جیرڈ آئزک مین نے ترکیہ کو آرٹیمس معاہدے کا 71واں رکن بننے پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ خلائی تحقیق میں ترکیہ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ناسا، امریکی محکمہ خارجہ اور 7 بانی ممالک نے 2020ء میں آرٹیمس معاہدہ تشکیل دیا تھا۔ اس میں خلا کی پرامن تحقیق، سائنسی معلومات کے تبادلے، ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد اور تاریخی اہمیت رکھنے والے خلائی مقامات و آثار کے تحفظ سمیت بین الاقوامی تعاون کے اصول طے کیے گئے ہیں۔ترکیہ کی جانب سے معاہدے میں شمولیت ایسے وقت ہوئی ہے جب ملک کا خلائی پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 2024ء میں الپر گیازراوجی ترکیہ کے پہلے خلا نورد بنے، جنہوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا سفر کیا اور ناسا کے خلا نوردوں کے ساتھ سائنسی تحقیق میں حصہ لیا۔ بعد ازاں تووا آتاسے ور نے ورجن گیلیکٹک کی ساتویں پرواز کے تحت وی ایس ایس یونٹی کے ذریعے خلائی سفر کیا۔ترکیہ اپنے پہلے چاند مشن ’’آیاپ-1‘‘ کی تیاری بھی کررہا ہے، جس کے ذریعے وہ ان ممالک کے محدود مگر بڑھتے ہوئے گروپ میں شامل ہوجائے گا جو چاند تک اپنے مصنوعی سیارے بھیجنے کی صلاحیت حاصل کررہے ہیں۔یہ معاہدہ اکتوبر میں ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی بین الاقوامی خلائی کانگریس سے قبل طے پایا ہے۔ توقع ہے کہ کانگریس میں آرٹیمس معاہدے کے متعدد رکن ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے اور پرامن و شفاف خلائی تحقیق کے مستقبل پر تبادلہ خیال کریں گے۔