اٹلی میں مہنگائی اور فوجی اخراجات کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے
روم (مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے مہنگائی، کم اجرت اور فوجی اخراجات میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہروں میں زیادہ تر طلبہ اور مزدور شریک تھے، جنہوں نے تنخواہوں میں اضافے اور عوامی خدمات کی بہتری کا مطالبہ کیا۔یونین سنداکالے دی بازے نامی مزدور تنظیم نے ملک بھر میں 24 گھنٹے کی عام ہڑتال کی کال دی تھی، جس کے تحت 40 سے زائد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔رپورٹس کے مطابق مظاہروں کی مجموعی صورتحال پُرامن رہی، تاہم بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی۔شہر ٹورین میں پولیس نے سرکاری عمارت کی سکیورٹی کے لیے قائم حصار کی جانب بڑھنے والے طلبہ اور بائیں بازو کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔دارالحکومت روم میں مظاہرین نے کولوسیم کے قریب بڑا مارچ کیا اور ہفتے کے اختتام تک وہاں خیمے لگا کر دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ بعض مقامات پر کوڑے دان سڑکوں پر رکھ کر آگ لگا دی گئی۔اطالوی خبر رساں ادارے انسا کے مطابق شام کے وقت مظاہرین کے ایک بڑے گروپ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے واٹر کینن کا استعمال کیا۔پولیس رکاوٹیں عبور کرنے کی بار بار کوشش پر 8 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔