استاد نئی نسل کی تربیت اور قوم کی ترقی کا حقیقی معمار ہ

استاد نئی نسل کی تربیت اور قوم کی ترقی کا حقیقی معمار ہ

لاہور( تر کیہ خبر)کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی صرف بلند عمارتوں، جدید سہولیات یا معاشی مضبوطی سے ممکن نہیں ہوتی بلکہ اس کی بنیاد ان افراد پر قائم ہوتی ہے جو نئی نسل کو علم، آگہی اور اچھے کردار کی تربیت دیتے ہیں۔استاد اسی اہم ذمہ داری کو نبھاتا ہے۔ بچہ ابتدائی تربیت گھر سے حاصل کرنے کے بعد جب تعلیمی ادارے میں داخل ہوتا ہے تو استاد اس کی صلاحیتوں کو نکھارتا، سوچ کو وسعت دیتا اور اسے زندگی کے مختلف حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتا ہے۔ استاد کا کام صرف کتابی علم منتقل کرنا نہیں بلکہ اپنے عمل، رویے اور رہنمائی کے ذریعے طالب علم کی شخصیت کو بہتر بنانا بھی ہے۔ اسی وجہ سے استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے، کیونکہ آج کے طلبہ ہی مستقبل میں مختلف شعبوں کے ماہر، دانشور، محقق، منتظم اور رہنما بنتے ہیں۔عالمی یوم اساتذہ معاشرے کے لیے اس بات کی یاد دہانی ہے کہ معلمین کی محنت، خدمات اور قربانیوں کو سراہا جائے اور ان کے مقام و احترام کو اجاگر کیا جائے۔درس و تدریس کا شعبہ صرف اسلامی تعلیمات ہی میں نہیں بلکہ دنیا کے مختلف مذاہب اور معاشروں میں بھی قابل احترام سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ جن قوموں نے اپنے اساتذہ کو قدر و منزلت دی، انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں معلم کو غیر معمولی عزت حاصل ہے، کیونکہ استاد علم کی روشنی پھیلا کر انسان کو درست سمت دکھاتا اور اسے کامیابی کی بلندیوں تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے۔اسلام میں بھی معلم کے مقام کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کو تعلیم دینے والے کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے، جبکہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو معلم بنا کر بھیجا گیا۔ امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ سے جب ان کی کسی خواہش کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ کاش وہ ایک معلم ہوتے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.