سپریم کورٹ نے بھرتی قواعد بحال، سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا
اسلام آباد ( تر کیہ خبر) سپریم کورٹ نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کے بھرتی قواعد 2014 بحال کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔جسٹس عائشہ اے ملک نے مقدمے کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔ وفاقی سروس ٹریبونل نے 15 جولائی 2014 کو مرتب کیے گئے بھرتی قواعد کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ سروس ٹریبونل کو پالیسی معاملات میں مداخلت یا بھرتی کے قواعد ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ ٹریبونل کو اپنے قانونی دائرۂ اختیار میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہییں اور وہ انتظامیہ کی جگہ لے کر قواعد ازسرنو تشکیل دینے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔تحریری فیصلے کے مطابق متعلقہ ملازم یکم جنوری 2021 کو جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر کے عہدے پر ترقی پا چکا تھا۔ اس نے 2014 کے قواعد کے تحت ترقی حاصل کرنے کے بعد انہی ضوابط کو چیلنج کیا۔سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جونیئر آڈیٹر سے اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر کے عہدے پر براہ راست ترقی حاصل کرنا کوئی قانونی یا پہلے سے تسلیم شدہ حق نہیں۔ ترقی کو بھی بنیادی یا حاصل شدہ حق قرار نہیں دیا جا سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت انتظامی تقاضوں کے مطابق ملازمتوں کے ڈھانچے اور بھرتی کے ضوابط میں تبدیلی کرنے کا مکمل اختیار رکھتی ہے۔ جونیئر آڈیٹر سے سینئر آڈیٹر (بی ایس 16) کے عہدے پر ترقی کا کوٹہ مئی 2019 میں 10 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا تھا۔فیصلے کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 2017، 2019 اور 2021 میں بھی انہی قواعد میں ترامیم کی منظوری دی۔ بعد میں ہونے والی منظوریوں اور قواعد پر مسلسل عمل درآمد سے 2014 کے ضوابط کی قانونی حیثیت برقرار رہتی ہے۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 212 کے تحت سروس ٹریبونل کا اختیار ملازمین کی ملازمت سے متعلق شرائط و ضوابط تک محدود ہے۔ اگر کسی قاعدے سے ملازم کے بنیادی یا قانونی حقوق متاثر نہ ہوں تو ٹریبونل کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔