بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک پر طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا

بھارت میں امتحانی پرچوں کے لیک پر طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں امتحانی پرچوں کے مسلسل افشا ہونے کے خلاف طلبہ کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی نوجوان حکومت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔20 جولائی کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران ہزاروں طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں 100 سے زائد طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات کو مسترد کیا، تاہم سوشل میڈیا پر طلبہ کی جانب سے شیئر کی گئی کئی ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوئیں، جن میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد ممبئی، بنگلورو، پٹنہ، لکھنؤ اور آئزول سمیت بھارت کے مختلف شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔طلبہ تحریک کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔مظاہرین کے اہم مطالبات میں وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کا استعفیٰ، احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کی یقین دہانی، جبکہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے باعث خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہلِ خانہ کے لیے مالی امداد شامل ہیں۔دوسری جانب سوشل میڈیا پر نوجوان میمز، مختصر ویڈیوز اور طنزیہ پوسٹس کے ذریعے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سوشل میڈیا پوسٹس پر بھی کئی صارفین وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پہلی بار طلبہ کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.