قاہرہ کے عجائب گھر میں عثمانی دور کے نایاب نوادرات
قاہرہ/استنبول( تر کیہ خبر) مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قائم اسلامی فنون کے عجائب گھر میں اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ سے زائد نایاب نوادرات محفوظ ہیں، جن میں مصر اور ترکیہ کے عثمانی دور کے متعدد قیمتی فن پارے بھی شامل ہیں۔عجائب گھر میں مخطوطات، طب سے متعلق اشیا، فلکیاتی آلات، دھات، شیشے اور مٹی کے برتن، زیورات، لکڑی، ہاتھی دانت، کپڑے اور قالین سمیت اسلامی تہذیب کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرنے والی اشیا موجود ہیں۔عثمانی دور کے نمایاں نوادرات میں 16ویں اور 17ویں صدی کی لکڑی کی جالی دار مشربیّہ بھی شامل ہے۔ اس طرز کی جالیاں گھروں میں دھوپ اور نمی کی شدت کم کرنے کے ساتھ رازداری برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔عجائب گھر میں 18ویں صدی کی عثمانی ٹائلیں، 17ویں صدی کا ٹائلوں سے مزین لکڑی کا آتش دان، مکہ مکرمہ کی عظیم مسجد کی تصویر پر مشتمل سرامک تختی اور عثمانی دور کی رنگین شیشے کی کھڑکیاں بھی رکھی گئی ہیں۔یہاں 16ویں صدی کے عثمانی مصر کا اون اور سوتی قالین بھی موجود ہے، جسے محلوں اور گھروں کے فرش پر بچھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ 18ویں صدی کا ترکیہ کے شہر کولا سے منسوب جائے نماز اور شہر گورڈیس سے منسوب دو جائے نمازیں بھی نمائش میں شامل ہیں۔عجائب گھر میں طب کی قدیم کتاب کے صفحات، عثمانی مصر کے 16ویں صدی کے دو شیشے کے ریت گھڑیاں، 18ویں صدی کا سنگ مرمر کا کتبہ اور تانبے و کانسی کے پیالے بھی رکھے گئے ہیں۔مصر کی وزارت سیاحت و آثار قدیمہ کے مطابق اسلامی نوادرات کو جمع کرکے عجائب گھر میں رکھنے کا تصور 1880ء میں سامنے آیا، جبکہ موجودہ عمارت 1903ء میں قائم کی گئی۔ عمارت کا بیرونی حصہ مملوک طرز تعمیر کا نمونہ ہے۔ 2014ء میں قاہرہ کے سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ پر بم دھماکے کے باعث عجائب گھر کو نقصان پہنچا، جس کے بعد جامع مرمت کے ذریعے اسے 2017ء میں دوبارہ کھول دیا گیا۔عجائب گھر کے نمایاں خزانوں میں مملوک دور کی خانہ کعبہ کی چابی اور قدیم کوفی تحریر والا کپڑے کا ایک ٹکڑا بھی شامل ہے۔