اسرائیل میں نیتن یاہو کو دھچکا، گادی آئزنکوٹ کو اکثریتی حمایت مل گئی

اسرائیل میں نیتن یاہو کو دھچکا، گادی آئزنکوٹ کو اکثریتی حمایت مل گئی

تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل میں 27 اکتوبر کو منعقد ہونے والے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا معاملہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگیا ہے، جبکہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو اس وقت بڑا سیاسی نقصان اٹھانا پڑا جب ان کے اہم مخالف اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ پارلیمانی ارکان کی اکثریتی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے نئی حکومت کے قیام سے متعلق مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے مشاورت کی، جس میں 120 رکنی پارلیمنٹ کے 67 ارکان نے گادی آئزنکوٹ جبکہ 46 ارکان نے نیتن یاہو کو حکومت بنانے کا موقع دینے کی سفارش کی۔ صدر کو 11 نومبر تک فیصلہ کرنا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے لیے کس امیدوار کو نامزد کیا جائے۔نیتن یاہو کی جماعت لیکود 27 نشستیں حاصل کرکے پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، تاہم مذہبی اور قوم پرست جماعتوں پر مشتمل ان کے اتحادی گروپ کو مجموعی طور پر صرف 53 نشستیں مل سکیں، جس کے باعث وہ مطلوبہ اکثریت حاصل نہ کر سکا۔دوسری جانب آئزنکوٹ کے حامی سیاسی اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں، جبکہ عرب اقلیتی جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیت کر آئزنکوٹ کی حمایت کا اعلان کیا۔نیتن یاہو نے انتخابی نتائج پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم اسرائیلی مرکزی انتخابی کمیٹی نے انتخابات کی شفافیت پر شکوک و شبہات مسترد کر دیے ہیں۔ ان کے اتحادیوں کی جانب سے عرب جماعتوں کے رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔نئی حکومت کے قیام اور وزیراعظم کے انتخاب تک نیتن یاہو نگران سربراہ حکومت کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.