فرانس میں مہنگائی اور کم تنخواہوں کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

فرانس میں مہنگائی اور کم تنخواہوں کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ناکافی اجرتوں، سرکاری سہولتوں میں کمی اور تعلیمی نظام کی خراب صورتحال کے خلاف مزدوروں اور طلبہ نے ملک گیر احتجاج کیا اور ایک روزہ ہڑتال میں حصہ لیا۔ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہرے زیادہ تر پُرامن رہے، تاہم پیرس اور لیون میں پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان تصادم کے واقعات بھی پیش آئے۔فرانسیسی وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں احتجاج کرنے والوں کی تعداد 6 لاکھ رہی، جبکہ تحریک میں شریک مزدور تنظیم سی جی ٹی نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں میں 16 لاکھ افراد نے شرکت کی۔ہڑتال کے باعث پیرس کی مشہور سیاحتی عمارت ایفل ٹاور عوام کے لیے بند رہی، جبکہ توانائی کے شعبے میں کام روکنے کے نتیجے میں جوہری بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ دوسری جانب ٹرانسپورٹ کا نظام بڑی حد تک معمول کے مطابق چلتا رہا۔پیرس میں احتجاج کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ لیون میں بھی پولیس نے اسی طریقے سے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔مظاہرین کا مؤقف تھا کہ تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ مہنگائی کی تیز رفتار کے مقابلے میں ناکافی ہے، جبکہ عوامی سہولتوں اور بنیادی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو مزید مالی وسائل مختص کرنے چاہئیں۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.