درمیانی راہداری سے آذربائیجان کی معاشی اہمیت میں اضافہ
باکو ( تر کیہ خبر) عالمی معیشت میں تجارتی راستوں، پیداواری مراکز اور رسد کے نظام میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، ایسے میں ٹرانسپورٹ راہداریاں محض اشیا کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقلی کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ ممالک کی معاشی مسابقت، سرمایہ کاری حاصل کرنے کی صلاحیت، علاقائی رابطوں میں حیثیت اور عالمی معاشی نظام میں کردار متعین کرنے والے اہم عوامل بن گئی ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کے ماہر مہمت گوکھان اوزچوبکچو نے آذرتاج سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارتی روابط میں تنوع اور متبادل راستوں میں بڑھتی دلچسپی کے باعث جنوبی قفقاز کی معاشی و جغرافیائی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ باکو میں منعقد ہونے والا دوسرا آذربائیجان بین الاقوامی سرمایہ کاری فورم اس تبدیلی کے معاشی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا۔ فورم میں درمیانی راہداری، نقل و حمل و رسد، توانائی، ڈیجیٹل تبدیلی، صنعت، آزاد اقتصادی علاقوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو باہم مربوط انداز میں زیر بحث لایا گیا۔ماہر کے مطابق بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور شراکت دار کمپنیوں کے ساتھ مجموعی طور پر 10 ارب 80 کروڑ ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری منصوبوں سے متعلق 23 دستاویزات پر دستخط کیے گئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ رسد اور سرمایہ کاری کا ایجنڈا بتدریج ایک دوسرے سے زیادہ مربوط ہو رہا ہے۔