مکہ دفاعی معاہدہ دہشتگردی کیخلاف مو ثر ثابت ہو گا: ترک حکام
استنبول( تر کیہ خبر) ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں اور خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں دیگر دوست ممالک بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ترک سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں ایردوان نے کہا کہ اجتماعی دفاعی صلاحیت کے اصول پر مبنی یہ معاہدہ سکیورٹی اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے، مشترکہ دفاعی صنعتی منصوبوں کو فروغ دینے اور دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں معاونت کرے گا۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت تسلیم شدہ حقِ دفاع کی بھی توثیق کرتا ہے۔ترک صدر کے مطابق یہ معاہدہ کسی ملک کو نشانہ نہیں بناتا بلکہ خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے خواہاں تمام برادر ممالک کے لیے اس میں شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ایردوان نے کہا کہ ترکیہ عالمی قوانین کے احترام اور علاقائی ملکیت کے اصول کے تحت تنازعات اور بحرانوں کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر مبنی مؤقف برقرار رکھے گا۔انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر مکہ مکرمہ پہنچے، جہاں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات ہوئی اور تینوں ممالک نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ترک صدر نے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ، باہمی مشاورت اور طے پانے والا معاہدہ پورے خطے کے لیے مفید ثابت ہوگا۔