کویت میں شہریت قانون میں سخت ترامیم، ہزاروں افراد شہریت سے محروم

کویت میں شہریت قانون میں سخت ترامیم، ہزاروں افراد شہریت سے محروم

کویت ( مانیٹرنگ ڈیسک) 1959 کے پرانے شہریت قانون میں کی جانے والی حالیہ ترامیم کے بعد گزشتہ ہفتے ہزاروں افراد کو کویتی شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔کویتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہی فرمان نمبر 15 کے تحت نافذ ان نئی تبدیلیوں کا مقصد شہریت کے حصول کے طریقہ کار کو مزید سخت اور شفاف بنانا بتایا جا رہا ہے۔نئے قانون کے تحت اب شہریت حاصل کرنے والے افراد پر لازم ہوگا کہ وہ تین ماہ کے اندر کسی بھی دوسری ملک کی شہریت ترک کریں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2 ہزار 182 افراد کی شہریت منسوخ کی جا چکی ہے، جبکہ مزید کیسز زیر غور ہیں۔حکام نے شہریت کی منسوخی کے دائرہ کار کو بھی وسیع کر دیا ہے، جس کے تحت جعلی یا غلط معلومات فراہم کرنے، قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں یا ریاستی مفادات کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر کارروائی کی جا سکے گی۔قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں شہریت منسوخ ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے سفری دستاویزات بھی متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم متاثرہ افراد کو اپیل کا محدود حق دیا گیا ہے۔مزید یہ کہ غیر ملکی شہریوں کی اولاد کو اب خودکار طور پر شہری تسلیم کرنے کے بجائے قدرتی شہری کے طور پر دیکھا جائے گا، اور وہ بالغ ہونے پر اپنی شہریت سے متعلق فیصلہ کر سکیں گے۔بین الاقوامی جریدے نیو لائنز میگزین کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات 2024 سے جاری وسیع مہم کا حصہ ہیں، جس کے تحت اب تک ہزاروں افراد کی شہریت متاثر ہو چکی ہے۔کویت میں شہریت کو ایک اہم سہولت تصور کیا جاتا ہے، جس کے تحت شہریوں کو مفت علاج، رہائشی سہولیات اور دیگر مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.