امریکی حملوں نے سفارتی کوششیں سبوتاژ کر دیں: ایران
تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے اپنی سرزمین پر ہونے والے حالیہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں نے گزشتہ چند ماہ سے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے انتظامی امور میں کھلی مداخلت کی، جس کے باعث خطے میں ایک بار پھر عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہوئی اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی۔وزارت خارجہ نے کہا کہ ہفتے کے روز مسقط میں ہونے والے مذاکرات کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز کا انتظام تھا، تاہم امریکا نے عمان پر دباؤ ڈال کر مذاکرات کو نتیجہ خیز ہونے سے روک دیا۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور پارلیمان کے فیصلوں کے مطابق ایرانی مسلح افواج حالیہ حملوں کا جواب دینے کی پابند ہیں، اور ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ امریکی حملے اقوام متحدہ کے منشور، بالخصوص آرٹیکل 2 کی شق 4، کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ امریکا نے بعض خلیجی ممالک کی سرزمین اور عسکری تنصیبات کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔ایرانی وزارت خارجہ نے متعلقہ ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے فوجی تعاون سے گریز کریں اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں، بصورت دیگر ایسے اقدامات ایران کی دفاعی کارروائیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔