ایران نے امریکی اہداف پر کارروائیوں کو حقِ دفاع قرار دے دیا
تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے ایران اور امریکا سے فوجی کارروائیاں روکنے کی اپیل کے بعد ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس نے کسی ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی بلکہ اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحل پر واقع امریکی فوجی اڈوں اور دیگر اثاثوں کے خلاف ایران کی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے دائرے میں آتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ممالک سے سوال کیا جانا چاہیے جنہوں نے اپنی سرزمین اور فوجی اڈے امریکا کے استعمال کے لیے فراہم کیے ہیں۔ ان کے بقول بین الاقوامی قانون کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ان ریاستوں سے جواب طلب کرنے کے بجائے ایران کو اپنے دفاع پر تنقید کا نشانہ بنانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔اسماعیل بقائی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے خلیج فارس کے نام کے درست استعمال پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سرکاری ہدایات کے مطابق اس خطے کا درست نام خلیج فارس ہے اور اسی اصطلاح کو استعمال کیا جانا چاہیے۔یہ ردعمل اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے "خلیجی خطہ" کی اصطلاح استعمال کی تھی۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ایران اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ حالیہ کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور تنازع کے حل کے لیے دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔گوتیرس نے اپنے بیان میں ایران کے خلاف امریکی حملوں، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق پیش آنے والے واقعات اور خطے میں امریکا کے اتحادیوں پر ہونے والے حملوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔