ترکیہ کی برآمدات میں جدت کا کردار نمایاں، دفاعی شعبے کی فی کلو مالیت 61.5 ڈالر ہوگئی
استنبول( تر کیہ خبر)ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے کہا ہے کہ ستمبر تک ملک کی برآمدات کی اوسط فی کلوگرام مالیت بڑھ کر 1.73 ڈالر ہوگئی، جبکہ سیمنٹ اور سنگِ مرمر جیسی زیادہ وزن اور کم قیمت والی مصنوعات کو نکال کر یہ شرح 2.11 ڈالر فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔استنبول میں ترکیہ انوویشن ویک کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے عمر بولات نے بتایا کہ ملک میں جدت طرازی سے متعلق بڑے اجتماعات میں شمار ہونے والی اس تقریب کا 13واں ایڈیشن جمعرات کو شروع ہوا اور جمعے کو بھی جاری رہا۔ ترک برآمدکنندگان اسمبلی کے زیر اہتمام اس سال کی تقریب کا عنوان ’’انسانیت 6.0‘‘ ہے، جبکہ اناطولو خبر رساں ایجنسی اس کی عالمی ابلاغی شراکت دار ہے۔وزیر تجارت کے مطابق دفاعی صنعت میں برآمدات کی فی کلوگرام مالیت 61.5 ڈالر تک پہنچ گئی، جو مجموعی اوسط سے 39 گنا زیادہ ہے۔ دواسازی کے شعبے میں یہ مالیت 25 ڈالر، جہاز سازی اور یاٹ کے شعبے میں 14 ڈالر، جبکہ گاڑیوں کی صنعت میں 9 ڈالر فی کلوگرام رہی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ترکیہ کے تیار ملبوسات کی برآمدات کی فی کلوگرام مالیت 80 سے 100 ڈالر کے درمیان ہے۔ ان کے بقول یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ برآمدات میں جدت اور اضافی قدر کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔عمر بولات نے کہا کہ ترکیہ تحقیق و ترقی، جدت طرازی، برانڈ سازی، ڈیزائن اور اضافی قدر پر مبنی ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال کی تقریب کا مرکزی مقصد یہ جائزہ لینا ہے کہ انسان ٹیکنالوجی سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ پیداواری نظام میں کام کر سکتا ہے، مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے فوائد کو کس طرح بہتر انداز میں استعمال کیا جائے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دولت منصفانہ طور پر کیسے تقسیم کی جائے۔وزیر تجارت کے مطابق مصنوعی ذہانت کی وسیع معاشی صلاحیت کے باعث پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ 2040 تک عالمی تجارت میں اس کا کردار 40 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔