فرانس میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کرگیا، 5 نومبر کو بڑے مظاہروں کا اعلان
پیرس( مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے، جہاں حکومت کی جانب سے تعلیمی اصلاحات اور مالی مراعات کے اعلان کے باوجود طلبہ رہنماؤں نے مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔احتجاج کا دائرہ تعلیمی اداروں سے نکل کر مزدور یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں تک پھیل گیا ہے، جس سے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے۔حکومت نے اسکولوں میں بعض کلاسوں کے طلبہ کی تعداد محدود کرنے، تعلیمی عمارتوں کی تزئین و مرمت کے لیے 4 ارب یورو کے قرضوں اور جامعات میں داخلوں کے نظام میں تبدیلی سمیت متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں مظاہروں کے دوران 1,435 افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ کاروباری حلقوں نے احتجاج اور تشدد کے باعث فروخت میں نمایاں کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔فرانس میں احتجاج کا اگلا بڑا مرحلہ 5 نومبر کو متوقع ہے۔