سابق افغان رکن پارلیمنٹ کی طالبان حکومت پر تنقید، خاتمے کی پیشگوئی

سابق افغان رکن پارلیمنٹ کی طالبان حکومت پر تنقید، خاتمے کی پیشگوئی

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان کے سابق رکنِ پارلیمنٹ بکتاش سیاوش نے طالبان حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ نظام مستقل نہیں رہے گا اور وقت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ایک افغان نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بکتاش سیاوش نے کہا کہ طالبان کی پالیسیاں اسلام کی حقیقی تعلیمات کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ ان کے اقدامات سے مذہب کا منفی تاثر پیدا ہو رہا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان خواتین کے حقوق، جدید تعلیم، فنون اور انسانی آزادیوں کے حوالے سے ایسی پالیسیاں اختیار کر رہے ہیں جن سے افغانستان کا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت ایک مخصوص منصوبے کے تحت قائم رکھی گئی ہے اور جب اس کے مقاصد مکمل ہو جائیں گے تو یہ نظام بھی ختم ہو جائے گا۔بکتاش سیاوش نے مزید کہا کہ افغان عوام طویل عرصے تک جبر پر مبنی طرزِ حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے۔دوسری جانب بعض عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی پالیسیوں پر عالمی سطح پر تنقید جاری ہے، جبکہ ملک میں مختلف مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیاں بھی صورتحال پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.