ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، باہمی حملوں اور جوابی دعوؤں کا تبادلہ

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، باہمی حملوں اور جوابی دعوؤں کا تبادلہ

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر میزائل اور ڈرون حملوں کے الزامات اور دعوے کیے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی کارروائی میں جزیرہ قشم میں ایک کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنایا گیا، جس کے جواب میں ایران نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹرز، ایئربیس اور بعض ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔ مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے کے جواب میں بھی کارروائی کی گئی۔پاسداران انقلاب کے مطابق آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کی قیمت امریکا کو چکانا ہوگی۔ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ ایرانی افواج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہیں اور دشمن کو مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔دوسری جانب خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی نے کہا کہ ایران پر دباؤ ڈال کر مکمل سرینڈر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تاہم ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ابھی اپنی مکمل عسکری صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں اور اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو جنگ میں نیٹو کی شمولیت کے باوجود ایران کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔

© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.