امریکا میں مقیم آذربائیجانی پروفیسر کا تعلیمی سفر، جدوجہد اور کامیابیاں
استنبول( تر کیہ خبر) امریکا میں مقیم آذربائیجانی پروفیسر اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کی نائب صدر اور تعلیمی پالیسی کی پروفیسر سیونج محمدوا نے اپنے تعلیمی سفر، علمی و پیشہ ورانہ سرگرمیوں اور آذربائیجان سے متعلق بین الاقوامی تعلیمی منصوبوں میں شرکت کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ایک انٹرویو میں سیونج محمدوا نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ 2004ء میں امریکا آئیں۔ بچپن ہی سے انہیں انگریزی زبان اور امریکا میں گہری دلچسپی تھی۔ ان کے مطابق چار سال کی عمر میں والدہ کی جانب سے دیا گیا آذربائیجانی، انگریزی لغت بھی اس شوق کو پروان چڑھانے میں اہم ثابت ہوا۔انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ٹیلی وژن پر امریکی کانگریس کی عمارت دیکھ کر وہ اپنے والد سے کہا کرتی تھیں کہ وہ بھی وہاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔بعدازاں انہوں نے گنجہ ریاستی یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں داخلہ لیا۔ وہاں چند افراد کو انگریزی بولتے دیکھا تو ان میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انہیں ایک درخواست فارم دیا گیا۔ انہوں نے فارم گھر لے جاکر پُر کیا، بالخصوص مضمون کے حصے کو کئی مرتبہ لکھا اور درست کیا، جبکہ اپنی دستاویزات مقررہ آخری روز باکو روانہ کیں۔