ایمنسٹی کا بھارت میں این جی اوز پر پابندیوں پر اظہارِ تشویش
ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں سے متعلق غیر ملکی فنڈنگ قوانین پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت 8 انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی گئی ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے نئے غیر ملکی فنڈنگ قوانین سول سوسائٹی کی سخت نگرانی اور تنظیم سازی کی آزادی کو محدود کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق، پالیسی تحقیق، عوامی شعور اجاگر کرنے، قانونی اصلاحات اور حکومتی احتساب کے شعبوں میں کام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں ان قوانین سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین عالمی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے اور این جی اوز پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہزاروں غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر چکی ہے، جس کے باعث کئی ادارے اپنی سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی ماضی میں بھارت میں این جی اوز سے متعلق سخت قوانین پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ان قوانین پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔انسانی حقوق کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے قوانین کو بعض اوقات تنقیدی آوازوں اور سول سوسائٹی کے اداروں کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔