ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)ایئر انڈیا نے اپنے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کو اس وقت گراؤنڈ کر دیا جب ایک پائلٹ نے پرواز کے دوران فیول کنٹرول سوئچ میں مسئلے کی نشاندہی کی۔ایئر انڈیا کے مطابق یہ وہی سسٹم ہے جو گزشتہ برس ہونے والے مہلک طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مرکز بنا ہوا تھا۔ احتیاطی طور پر طیارے کو پروازوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور اصل ساز و سامان بنانے والی کمپنی (OEM) کو پائلٹ کے خدشات کا فوری جائزہ لینے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔ ایئر لائن نے بھارتی ایوی ایشن ریگولیٹر کو بھی اس معاملے سے آگاہ کر دیا ہے۔بوئنگ اور بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی نے اس وقت اس معاملے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔واضح رہے کہ ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئر لائنز کی ملکیت ایئر انڈیا کو جون 2025 میں پیش آنے والے ڈریم لائنر حادثے کے بعد شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایئر انڈیا کے مطابق اس حادثے کے بعد تمام بوئنگ 787 طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچز کی جانچ کی گئی تھی، تاہم کسی خرابی کا سراغ نہیں ملا تھا۔خبر رساں ادارے کے مطابق جون 12 کے حادثے کی کاک پٹ ریکارڈنگ میں دونوں پائلٹس کے درمیان ہونے والی گفتگو سے عندیہ ملتا ہے کہ طیارے کے کپتان نے انجنوں کو جانے والے ایندھن کا بہاؤ بند کر دیا تھا، جسے امریکی حکام کی ابتدائی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا نے اپنے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے گراؤنڈ کردئیے
2 ماہ قبل