امریکی سینیٹرز نے ترکیہ کی ایف-35 پروگرام میں واپسی کو مثبت پیش رفت قرار دے دیا
انقرہ( ترکیہ خبر) امریکی سینیٹرز نے کہا ہے کہ ترکیہ کی ایف-35 لڑاکا طیارہ پروگرام میں ممکنہ واپسی انقرہ اور واشنگٹن دونوں کے لیے مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم اس کے لیے روسی ایس-400 فضائی دفاعی نظام سے متعلق خدشات کا حل ضروری ہے۔نیٹو کے 36ویں سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی سینئر رکن اور سینیٹ نیٹو آبزرور گروپ کی شریک چیئر جین شاہین نے کہا کہ اگر ایس-400 نظام سے متعلق خدشات دور کر دیے جائیں تو اس معاملے میں پیش رفت ممکن ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ روس سے ایس-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے کے بعد ترکیہ کو ایف-35 پروگرام سے خارج کر دیا گیا تھا۔جین شاہین نے کہا کہ اگر ایسا حل نکال لیا جائے جس سے ایف-35 ٹیکنالوجی کو ایس-400 نظام سے لاحق خدشات ختم ہو جائیں اور تمام فریق کسی اتفاق رائے پر پہنچ جائیں تو ترکیہ کی پروگرام میں واپسی دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ منصوبے سے متعلق ابھی کئی سوالات کے جواب درکار ہیں، اس لیے فی الحال صورتحال کا انتظار کیا جا رہا ہے۔امریکا اور ترکیہ کے تعلقات سے متعلق ایک سوال پر جین شاہین نے کہا کہ اگرچہ امریکی سینیٹ میں ترکیہ پر تنقید بھی ہوتی ہے، تاہم کانگریس مجموعی طور پر نیٹو میں ترکیہ کے کردار کو مثبت انداز میں دیکھتی ہے۔ان کے مطابق امریکی کانگریس کو ترکیہ کی دفاعی صنعت، اس کے مضبوط ڈھانچے اور نیٹو اتحاد میں اس کے اہم کردار کی مکمل اہمیت کا ادراک ہے۔