ترکیہ خبر

امریکا اور بحرین کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش

امریکا اور بحرین کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور بحرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف ایک نئی قرارداد پیش کر دی ہے جس میں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور رکاوٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ میں بحرین کے مستقل مندوب جمال فارس الروایعی نے مسودہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی تجارت اور معیشت کے لیے بھی نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے۔ قرارداد میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ تجارتی اور مال بردار جہازوں پر حملے اور دھمکیاں فوری طور پر بند کرے۔ اس میں بارودی سرنگوں اور مبینہ غیر قانونی ٹول وصولی کے معاملات بھی شامل کیے گئے ہیں۔امریکی مندوب مائیک والٹز نے دعویٰ کیا کہ ایران نے خلیج فارس میں ایک اتھارٹی قائم کر کے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ بارودی سرنگیں اور غیر قانونی رکاوٹیں عالمی سمندری قوانین کے منافی ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک سے سوال کیا کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں یا خلیجی ممالک کے ساتھ۔متحدہ عرب امارات نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔تاہم قرارداد کو روس اور چین کی مخالفت کا سامنا ہے اور اس کے ویٹو ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی اور بحرینی قرارداد کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور سیاسی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ امریکہ “جہاز رانی کی آزادی” کے نام پر اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں بحران کی اصل وجہ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیاں ہیں، جبکہ ایرانی جہازوں پر قبضے اور بحری ناکہ بندی کو “سمندری قزاقی” کے مترادف قرار دیا۔ ایرانی سفیر کے مطابق امریکہ کے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد ایران کو عالمی سطح پر بدنام کرنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کا حل صرف مذاکرات اور فوجی اقدامات کے خاتمے میں ہے، جبکہ موجودہ امریکی رویہ خطے میں استحکام کے بجائے مزید بحران کو جنم دے رہا ہے۔