لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی پارلیمنٹ میں منعقدہ افطار تقریب میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے شرکت کی اور روزہ افطار کرنے کے بعد شرکاء سے خطاب کیا۔اپنے خطاب میں کیئر اسٹارمر نے برطانیہ میں مسلمانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور واضح کیا کہ برطانیہ ایران پر کسی جارحانہ حملے میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی جنگوں سے سبق سیکھنا ضروری ہے اور خود عراق جنگ کے مخالف رہے ہیں۔وزیرِاعظم نے کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں صرف اپنے شہریوں اور اتحادیوں کے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور کسی جارحانہ پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔کیئر اسٹارمر نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مساجد کی سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے 40 ملین پاؤنڈ مختص کیے جا رہے ہیں تاکہ عبادت گاہوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔تقریب میں مختلف مذاہب اور کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔
برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے افطار تقریب میں مسلمانوں کے کردار کو سراہا
1 ماہ قبل