ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل ہونے کا اظہارِ امید
وا شنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی سرگرمیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ جنگ شروع نہ ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اور تہران 60 روزہ مذاکرات کے دوران تمام معاملات حل کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور دوبارہ جنگی کارروائیوں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔امریکی صدر نے واشنگٹن کے قریب اینڈریوز ایئر بیس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں اور اب مسائل کے حل کے لیے 60 دن کا وقت موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مقررہ مدت میں پیش رفت نہ ہوئی تو ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو ایران کو پسند نہیں آئیں گے، تاہم انہیں امید ہے کہ صورتحال بہتر انداز میں آگے بڑھے گی۔سفارتی رابطوں میں تیزیامریکا اور ایران نے بدھ کے روز ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں مختلف محاذوں پر لڑائی روکنے اور ایران کے جوہری معاملے پر 60 روزہ تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔مذاکرات کا آغاز جمعہ کو ہونا تھا، تاہم علاقائی کشیدگی کے باعث انہیں مؤخر کر دیا گیا۔دوسری جانب پاکستان اور قطر سمیت ثالثی کرنے والے ممالک نے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔قطری وزیراعظم شیخ محمد الثانی نے سوئٹزرلینڈ کے دورے کے دوران سوئس وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے بھی تہران جانے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔