تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے اپنے جنوب مغربی علاقے میں ایک امریکی لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد امریکہ کی افواج نے عملے کو بچانے کے لیے فوری کارروائی شروع کر دی۔ اطلاعات کے مطابق ایک اہلکار کو بحفاظت نکال لیا گیا جبکہ دیگر کے بارے میں صورت حال غیر واضح ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملکی فضائی حدود میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اور جنگی امدادی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والے کومبیٹ کنگ طیارے کم بلندی پر پرواز کرتے نظر آئے۔رپورٹس کے مطابق یہ پروازیں جنوبی ایران اور زاگرس پہاڑی سلسلہ کے قریب واقع لردگان شہر کے اطراف کی گئیں، جہاں آسمان پر متعدد ہیلی کاپٹر دیکھے گئے۔ادھر پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جدید دفاعی نظام کے ذریعے ایک جدید طرز کے لڑاکا طیارے کو مار گرایا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ طیارہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا جس کے باعث پائلٹ کے انجام سے متعلق کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں، تاہم اس کے بچنے کے امکانات کم بتائے جا رہے ہیں۔پاسداران انقلاب کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے جب اس نوعیت کا طیارہ گرایا گیا ہے۔ دوسری جانب عسکری ماہرین نے سوشل میڈیا پر شائع تصاویر پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملبہ کسی اور طیارے کا معلوم ہوتا ہے۔ایک ایرانی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ طیارے سے باہر نکلنے کے بعد ایک امریکی پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران میں امریکی طیارہ تباہ پائلٹ کی تلاش میں خفیہ کارروائی کا انکشاف
1 دن قبل