واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولا نہ گیا اور معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں اور ڈی سیلی نیشن پلانٹس پر فوجی کارروائی کرے گا۔ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکا ایران میں اپنی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک نئی حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے اور اس میں بڑی پیش رفت ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ غالب امکان ہے کہ ایران معاہدہ کرے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو ہم ایران میں اپنے قیام کا اختتام ان تمام توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے۔صدر نے کہا کہ یہ اقدام ان متعدد امریکی فوجیوں اور دیگر افراد کے بدلے میں ہوگا جنہیں ایران نے گزشتہ 47 سالہ ’’دورِ دہشت‘‘ میں ہلاک کیا۔عرب میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس بجلی گھر کو نشانہ بنایا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ سب سے بڑے پلانٹس پہلے متاثر ہوں گے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ 31 دن میں داخل ہو چکی ہے اور کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے ایندھن اور توانائی کے ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو وہ خطے میں امریکا کے تمام توانائی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائیں گے۔
آبنائے ہرمز نہ کھلے تو توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کرینگے:ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
5 دن قبل