واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز، جنوبی خلیج عرب اور خلیج عمان کے اطراف ایرانی تنصیبات اور عسکری وسائل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مجوزہ کارروائیوں میں ایران کی تیز رفتار چھوٹی کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری صلاحیتوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ وسائل ہیں جن کے ذریعے ایران ماضی میں اہم آبی گزرگاہوں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے اور دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپناتا رہا ہے۔امریکی حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد خطے میں سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ بندش یا رکاوٹ کو روکنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور توانائی کی عالمی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی، ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے منصوبے زیر غور
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں