واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنے سخت مؤقف کے ساتھ ایک مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ فون پر مذاکرات جاری ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں اور اسے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا، جبکہ امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے اہداف تقریباً مکمل کر لیے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے متعدد میزائل سسٹمز کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور ایرانی کرنسی کی قدر میں بھی کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایران اور یوکرین کی صورتحال پر بھی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیوٹن سے واضح کیا گیا ہے کہ امریکا جنگ کے خاتمے میں کردار ادا کرنے سے پہلے روس کو اپنی جنگ روکنی ہوگی۔ ٹرمپ کے مطابق پیوٹن نے ایران کے یورینیم افزودگی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق سینٹ کام نے مشرق وسطیٰ میں ڈارک ایگل میزائل سسٹم کی تعیناتی کی درخواست کی ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر ایران میں دور تک مار کرنے والے میزائل لانچرز کو نشانہ بنانا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ہائپر سونک میزائل نظام پہلی بار عملی طور پر تعینات کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ پروگرام اب تک مکمل طور پر فعال نہیں ہوا۔
ایران سے مذاکرات جاری ہیں، جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، ٹرمپ کا بیان
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں