دبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)خلیجی ممالک کو فراہم کیے گئے امریکی جدید میزائل دفاعی نظام، جنہیں خطے کے لیے ناقابلِ تسخیر ڈھال قرار دیا جاتا تھا، ایران کے جوابی حملوں کے دوران توقعات کے برعکس مؤثر ثابت نہ ہو سکے، جس کے بعد ان نظاموں کی عملی افادیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔امریکا کی جانب سے خلیجی ممالک کو دی جانے والی سیکیورٹی ضمانت کا بنیادی انحصار انہی جدید دفاعی نظاموں پر رہا ہے، جن میں فضا سے بلند سطح پر میزائلوں کو نشانہ بنانے والا نظام اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی بیٹریاں شامل ہیں۔ان نظاموں کو بیلسٹک میزائلوں کے آخری مرحلے میں انہیں تباہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا مکمل دفاعی حل قرار دیا گیا تھا، جبکہ کم فاصلے سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی ان پر انحصار کیا جاتا رہا۔گزشتہ برسوں کے دوران خلیجی ممالک نے ان دفاعی نظاموں پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، اس امید کے ساتھ کہ یہ جدید ٹیکنالوجی خطے کو میزائل خطرات سے مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔تاہم حالیہ صورتحال میں ان نظاموں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالات نے دفاعی ماہرین اور پالیسی سازوں کو نئی بحث میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ خطے میں سیکیورٹی حکمتِ عملی پر بھی نظرثانی کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
خلیجی ممالک میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی ناکامی پر سوالات اٹھنے لگے
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں