پاکستان میں 80 لاکھ سے زائد بچے مزدوری پر مجبور
اسلام آباد( ترکیہ خبر)پاکستان میں تعلیم کے حصول کے بجائے لاکھوں بچے مزدوری اور مشقت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 80 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جن میں 60 لاکھ سے زیادہ بچے خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس تشویشناک صورتحال کی بڑی وجہ غربت ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر کم آمدن والے خاندانوں اور کم تعلیم یافتہ والدین پر پڑتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق لڑکوں کی ایک بڑی تعداد خطرناک کاموں سمیت مختلف شعبوں میں مزدوری کر رہی ہے، جبکہ بچوں کی اکثریت خاندانی کھیتوں، ورکشاپس اور گھریلو کاموں میں مصروف ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ چائلڈ لیبر بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسکول سے دور رہنے والے بچے طویل اوقات تک کام کرنے کے باعث بیماری، تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔