ترکیہ خبر

میٹے فریڈرکسن تیسری بار ڈنمارک کی وزیرِاعظم منتخب

میٹے فریڈرکسن تیسری بار ڈنمارک کی وزیرِاعظم منتخب

 ڈنمارک( مانیٹرنگ ڈیسک)دو ماہ سے زائد عرصے تک جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال کے بعد ڈنمارک میں نئی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹ جماعت کی رہنما میٹے فریڈرکسن نے اقلیتی حکومت تشکیل دے دی ہے، جس کے ساتھ ہی وہ مسلسل تیسری بار ملک کی وزیرِاعظم بن گئی ہیں۔عام انتخابات کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث حکومت سازی کا عمل طویل مذاکرات کا شکار رہا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد نئی حکومت کے قیام پر اتفاق رائے ممکن ہوا۔اگرچہ میٹے فریڈرکسن کی جماعت انتخابات میں سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر سامنے آئی، تاہم اس کی پارلیمانی نشستوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کئی دہائیوں میں جماعت کی کمزور ترین انتخابی کارکردگی شمار کی جا رہی ہے۔نئی حکومت کو متعدد داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں گرین لینڈ کے معاملے پر امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اہم ترین مسئلہ قرار دی جا رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق امریکی بیانات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔میٹے فریڈرکسن نے واضح کیا ہے کہ ڈنمارک اپنی خودمختاری اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کی حیثیت سے متعلق کسی بھی غیر معمولی پیش رفت کے وسیع علاقائی اور عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ یوکرین جنگ کے باعث یورپ کی بدلتی ہوئی دفاعی اور سلامتی کی صورتحال بھی نئی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ اسی تناظر میں ڈنمارک پہلے ہی اپنے دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کر چکا ہے اور مسلح افواج میں خواتین کی شمولیت کے مواقع بھی وسیع کیے جا چکے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئی حکومت کی کامیابی کا انحصار داخلی اتحاد برقرار رکھنے، معاشی استحکام کو یقینی بنانے اور عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے پر ہوگا۔