ترکیے خبر

ایران کا یو اے ای کو اسرائیل سے تعلقات پر انتباہ

ایران کا یو اے ای کو اسرائیل سے تعلقات پر انتباہ

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران ابوظہبی کے ساتھ دوستی برقرار رکھنا چاہتا ہے، تاہم ایران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔قطری میڈیا کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے پوری طرح آگاہ ہے اور ابوظہبی کو اسرائیلی منصوبوں اور سازشوں کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے کہا کہ امریکا خطے کے ممالک کو ایران سے خوفزدہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلی ہے، تاہم بدامنی پھیلانے یا فوجی مداخلت کرنے والوں کے لیے نہیں۔محسن رضائی نے امریکا کی خطے میں فوجی موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکا نے سوویت یونین کے خلاف بحری بیڑے بھیجے تھے، لیکن اب وہ کس کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے؟انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے کبھی ایٹم بم بنانے کا اعلان نہیں کیا، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے علاوہ کوئی اور ملک یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات بھی ایرانی حملوں کی زد میں آیا، جبکہ بعض اطلاعات میں ممکنہ جوابی اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی متحدہ عرب امارات پر ایران مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے باوجود یو اے ای نے مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا، اس لیے ابوظہبی کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی، تاہم یو اے ای نے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔