تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے ایک ایرانی تجارتی طیارے پر مبینہ امریکی حملے کے بعد جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے آئندہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کے مطابق عراقی سمندری حدود کے قریب امریکا اور اسرائیل سے منسلک ایک جہاز کو کروز میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز پر دھماکا ہوا۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو حالیہ واقعات کا ردعمل قرار دیا ہے۔ایرانی فوجی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر مستقبل میں کسی قسم کی کارروائی کی گئی تو اس کا فیصلہ کن اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے لبنان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ نہ رکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔انہوں نے امریکا اور اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انتباہات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کے بقول ایران کسی بھی ممکنہ صورتحال کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنے مؤقف کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔علاقائی کشیدگی میں اضافے کے باعث خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ سفارتی ذرائع تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوششوں میں مصروف ہیں۔