تہران( مانیٹرن ڈیسک) ایران میں جاری جنگ کے 25ویں روز کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے مغربی ایران اور تہران میں نئی فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق تہران کے قلب میں رات گئے حملے کیے گئے، جبکہ دوسری جانب ایران کے میزائلوں کے ٹکڑے جنوبی اسرائیل میں گرنے سے تل ابیب میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق شہر میں 7 مختلف مقامات پر ملبہ گرنے سے کم از کم 6 افراد زخمی اور 3 عمارتیں متاثر ہوئیں۔اس سے قبل تل ابیب اور وسطی اسرائیل میں سائرن بجنے کے بعد زور دار دھماکے سنے گئے، جبکہ دیمونا اور بئر السبع کے گردونواح میں بھی میزائل حملوں اور ملبہ گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ان کے میزائلوں نے اسرائیل کے کئی دفاعی نظاموں کو ناکام بنا دیا۔ادھر فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے وسطی ایران کے شہر اصفہان میں توانائی کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہوئے جس میں انہوں نے آبنائے ہرمز نہ کھلنے کی صورت میں بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔جنوب مغربی ایران میں خرم شہر پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج کے مطابق تہران میں پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز، بیلسٹک میزائل مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات سمیت شمالی اور وسطی ایران میں 50 سے زائد اہداف پر حملے کیے گئے ہیں۔امریکی حکام نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے پر جمعہ تک ہزاروں امریکی میرینز مشرق وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ایران میں فوجی کارروائیوں کی معاونت کے لیے چھاتا بردار بریگیڈ تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے، جس کا ایک مقصد جزیرہ خارگ پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی عالمی سکیورٹی اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ایران اسرائیل کشیدگی میں شدت، فضائی حملے اور میزائلوں کی بارش
1 ہفتے قبل