تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کے ذریعے جہازوں کو حفاظتی حصار میں نکالنے کے اعلان کو ایران انسانی ہمدردی کے اقدام کے بجائے اشتعال انگیزی کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کی سینئر فیلو اور ایران پوڈکاسٹ کی میزبان نگار مرتضوی نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ ایک جنگی علاقہ ہے اور ایران اس اقدام کو اسی تناظر میں دیکھے گا، جس کے نتیجے میں امریکی افواج اور وسائل ایران کی حدود کے مزید قریب آ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ یہ اقدام محض دھمکی ہے، مذاکراتی حکمت عملی ہے یا ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش، تاہم ایران اسے کسی صورت انسانی ہمدردی کا مشن نہیں سمجھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران اس مجوزہ منصوبے میں شامل ہو جائے اور آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے اور امریکہ پابندیاں ختم کرے تو پھر کسی بھی حفاظتی بحری مشن کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ ہے اور یہی اس کا بنیادی دباؤ کا ذریعہ بھی ہے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی بحری اقدام پر ایران کے اشتعال انگیزی کے خدشات
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں