تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے محکمہ خوراک و ادویات کے سربراہ مہدی پیر صالحی نے کہا ہے کہ جنگ کے اثرات کے باعث ملک کے پیٹرو کیمیکل اور فولاد کے شعبوں میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت بیمہ کے بجٹ پر نظرثانی کی کوشش کر رہی ہے اور ناگزیر طور پر بعض ادویات کی قیمتوں میں رد و بدل کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے پارلیمان اور تنظیمِ پلاننگ و بجٹ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں تاکہ بیمہ فنڈنگ میں اضافہ یقینی بنایا جا سکے اور عوام پر براہِ راست مالی بوجھ کم ہو۔مہدی پیر صالحی کے مطابق ملک کو بعض ادویات کی قلت کا سامنا ہے، تاہم بنیادی اور جان بچانے والی ادویات کی فراہمی میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ مخصوص برانڈز کی ادویات، جو پہلے مغربی ممالک سے درآمد کی جاتی تھیں، اب دستیابی کے مسائل سے دوچار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قلت پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور ادویات کے استعمال کو مقامی طور پر تیار کردہ مصنوعات کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔