حماس کا اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کیلئے ثالث ممالک سے مطالبہ
غزہ( مانیٹرنگ ڈیسک)حماس نے ثالث ممالک اور معاہدے کے ضامن فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں تاکہ غزہ کی عبوری فلسطینی انتظامیہ کو علاقے میں داخل ہونے اور شہری معاملات کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دی جا سکے۔حماس کے ترجمان حازم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ حماس کی جانب سے غزہ کی ہنگامی حکومت کی کمیٹی تحلیل کرنے اور انتظامی اختیارات غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے کے فیصلے کو فلسطینی سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عالمی حلقوں کی جانب سے مثبت اقدام قرار دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے کے بعد فلسطینی دھڑوں کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف عالمی فریقوں سے بھی ملاقاتیں کی گئیں، جن میں اس فیصلے کو غزہ کے انتظامی نظام کو بہتر بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔حازم قاسم کا کہنا تھا کہ اب ثالث ممالک اور معاہدے کے ضامن فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ قومی انتظامی کمیٹی کو غزہ میں داخلے کی اجازت دی جائے اور وہ روزمرہ کے شہری امور سنبھال سکے۔رپورٹس کے مطابق غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی ایک غیر سیاسی ادارہ ہے، جس میں فلسطینی شخصیات شامل ہیں۔ یہ کمیٹی غزہ کے شہری اور انتظامی معاملات چلانے کی ذمہ دار ہے اور جنوری کے وسط سے مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے اپنے امور انجام دے رہی ہے، تاہم اسے تاحال غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اس کمیٹی کو غزہ میں کام کرنے کا موقع ملتا ہے تو اس سے شہری انتظام، انسانی امداد کی فراہمی اور بنیادی سرکاری خدمات کی بحالی میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ علاقے میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کی کوششوں کو بھی تقویت ملنے کا امکان ہے۔