آر ایس ایس کے خفیہ مالی و تنظیمی معاملات پر عالمی جریدے کی رپورٹ
لندن( مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ نے ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس کے تنظیمی ڈھانچے اور مالی معاملات سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو نظریاتی بنیاد اور تنظیمی معاونت فراہم کرنے والی آر ایس ایس ایک صدی گزرنے کے باوجود باضابطہ طور پر رجسٹرڈ تنظیم نہیں ہے۔دی ڈپلومیٹ کے مطابق آر ایس ایس نہ خود کو ٹرسٹ قرار دیتی ہے اور نہ ہی غیر سرکاری تنظیم کے طور پر رجسٹرڈ ہے، جس کے باعث اسے مالیاتی نگرانی، سرکاری جانچ پڑتال اور ٹیکس سے متعلق بعض معاملات میں استثنیٰ حاصل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تنظیم نے گزشتہ سال امریکا میں رابطہ کاری اور لابنگ کی سرگرمیوں پر 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر خرچ کیے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے مرکزی دفتر کی عمارت 3.75 ایکڑ رقبے پر قائم ہے، جس میں 13 منزلہ تین ٹاور شامل ہیں۔ جریدے کے مطابق تنظیم کی متعدد جائیدادیں مختلف افراد کے ناموں پر درج ہیں۔دی ڈپلومیٹ نے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس اپنے کام کو خفیہ انداز میں انجام دیتی ہے اور اس پر انتہاپسند نظریات، آئینی اقدار کو نقصان پہنچانے، اقلیتوں کے خلاف نفرت اور معاشرتی تقسیم کو فروغ دینے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔کانگریس رہنما پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر تنظیم کامیابیوں کا کریڈٹ لینے میں پیش پیش ہے تو اسے مالی معاملات اور دیگر امور کا بھی جواب دینا ہوگا۔