مصنوعی ذہانت کے فروغ سے غیر مادی سرمایہ کاری 2025 میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
باکو( ویب ڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او) نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے استعمال کے باعث سافٹ ویئر، ڈیٹا، تحقیق اور دیگر غیر مادی اثاثوں میں سرمایہ کاری 2025 کے دوران ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ڈبلیو آئی پی او کے مطابق غیر مادی سرمایہ کاری میں تحقیق و ترقی، سافٹ ویئر، ڈیٹا، برانڈز، ڈیزائن اور ادارہ جاتی مہارت جیسے شعبے شامل ہیں، جو عالمی معیشت میں مسلسل بڑھتا ہوا حصہ بن چکے ہیں۔ادارے کی رپورٹ کے مطابق جائزہ لینے والے 29 ممالک، جو عالمی مجموعی قومی پیداوار کا 57 فیصد حصہ رکھتے ہیں، میں غیر مادی اثاثوں پر سرمایہ کاری 2025 کے دوران 10 کھرب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔رپورٹ میں امریکا، یورپی یونین کے رکن ممالک، برطانیہ، جاپان، بھارت اور دیگر متعدد ممالک شامل ہیں، تاہم دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین اس تحقیق کا حصہ نہیں تھی۔یہ اعداد و شمار ورلڈ انٹینجبل انویسٹمنٹ ہائی لائٹس 2026 رپورٹ میں شائع کیے گئے ہیں، جسے ڈبلیو آئی پی او نے روم میں قائم لوئیس بزنس اسکول کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔