اسلام آباد( ترکیہ خبر) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 5 ہزار 206 ارب روپے کی بلند سطح تک پہنچ چکا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس مالی بحران میں گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ 3 ہزار 442 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ بجلی کے شعبے میں واجبات کا حجم ایک ہزار 764 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2026 کے ابتدائی حصے تک توانائی کا شعبہ مسلسل مالی دباؤ کا شکار رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت اس گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ٹیرف میں اصلاحات اور سبسڈی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے اقدامات پر عمل کر رہی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت وفاقی حکومت نے مرحلہ وار ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور غیر ہدفی سبسڈیز کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں جمع شدہ قرضوں کو مرکزی بجلی خریداری ایجنسی کے واجبات میں تبدیل کیا جائے گا۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اصل قرض کی ادائیگی کے لیے بجلی کے صارفین پر اضافی سرچارج عائد کرنے سمیت دیگر سخت اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
پاکستان کے توانائی شعبے کا گردشی قرضہ 5 ہزار 206 ارب روپے تک پہنچ گیا
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان