موسمیاتی تبدیلیاں زرعی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ، نقصانات میں نمایاں اضافہ

موسمیاتی تبدیلیاں زرعی معیشت اور غذائی تحفظ کے لیے بڑا خطرہ، نقصانات میں نمایاں اضافہ

باکو( ترکیہ خبر) آذربائیجان کے صدر کے ماحولیاتی امور کے نمائندے مختار بابایف نے کہا ہے کہ زراعت صرف معاشی سرگرمی نہیں بلکہ غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے ایک نہایت اہم اور اسٹریٹجک شعبہ ہے۔انہوں نے 5ویں ایگروبزنس ڈیولپمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید موسم کے واقعات میں واضح اضافہ ہوا ہے، جو اب زیادہ شدت اور وسیع پیمانے پر سامنے آ رہے ہیں۔ان کے مطابق گزشتہ 50 برسوں میں عالمی سطح پر موسمیاتی آفات کی تعداد تقریباً پانچ گنا بڑھ چکی ہے، جبکہ سیلاب سب سے زیادہ تباہ کن قدرتی آفات میں شامل ہو چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دہائیوں میں 168 ممالک میں 4700 سے زائد سیلابی واقعات رپورٹ ہوئے، جن سے 3.2 ارب سے زائد افراد متاثر ہوئے اور مجموعی معاشی نقصان 1.3 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا۔مزید برآں، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 30 سال میں قدرتی آفات نے زرعی شعبے کو 3 کھرب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے، جو سالانہ 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے نقصان کے برابر ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا میں 2 ارب ہیکٹر سے زائد زمین پہلے ہی انحطاط کا شکار ہے، جبکہ ہر سال لاکھوں ہیکٹر زرعی زمین اپنی پیداواری صلاحیت کھو رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتی ہے بلکہ خود بھی عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.