باکو فورم: بین المذاہب مکالمے سے پائیدار امن کے فروغ پر زور
باکو (ترکیہ خبر) آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 28 اکتوبر کو ساتویں عالمی بین الثقافتی مکالمہ فورم کے تحت ’’بین المذاہب مکالمہ: مشترکہ مستقبل کی جانب روڈ میپ‘‘ کے عنوان سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں امن، یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی AZƏRTAC کے مطابق اجلاس کا انعقاد اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبی مکالمہ (UNAOC) اور ریاستی کمیٹی برائے مذہبی اداروں کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا۔ اجلاس کی نظامت اتحاد برائے تہذیبی مکالمہ کی ڈائریکٹر نہال سعد نے کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے نائب سیکریٹری جنرل، اتحاد برائے تہذیبی مکالمہ کے اعلیٰ نمائندے اور اسلاموفوبیا کے خلاف اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی میگوئل اینجل موراتینوس نے بین المذاہب مکالمے کو مضبوط بنانے، امتیازی سلوک کے خاتمے اور انسانی وقار کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مختلف مذاہب اور عقائد کے درمیان مشترکہ اقدار کو اجاگر کریں اور مذہب کے نام پر جنگ، تشدد اور انتہا پسندی کے لیے ہونے والے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔موراتینوس نے کہا کہ مکالمہ صرف پہلا قدم ہے، جبکہ پائیدار امن کے قیام کے لیے باہمی احترام، مشترکہ اقدامات اور مشترکہ ترجیحات طے کرنا ضروری ہے۔انہوں نے اسلاموفوبیا اور یہود دشمنی کے خلاف جدوجہد کو انفرادی حقوق، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ سے براہِ راست منسلک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں انسانی حقوق اور عالمی اقدار کا تحفظ مزید اہم ہوگیا ہے، جس کے لیے مذہبی رہنماؤں اور اہلِ ایمان کو مل کر کام کرنا چاہیے۔موراتینوس نے مزید کہا کہ تنازعات اور انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے بین المذاہب تعاون اور مسلسل مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔