لبنان( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد اسرائیل نے لبنان پر شدید میزائل حملے کیے جس کے نتیجے میں دو سو چون افراد جاں بحق ہو گئے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔ذرائع کے مطابق حملوں کے جواب میں ایران نے بھی میزائل کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر دیا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اس وقت تین اہم راستے موجود ہیں جن میں جنگ کا دوبارہ آغاز، سفارتی عمل کو آگے بڑھانا یا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو پسپائی پر مجبور کرنا شامل ہے۔ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ امریکا اور اسرائیل اس سے اختلاف رکھتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں بیروت پر حملوں کو علیحدہ جھڑپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی موجودگی کے باعث لبنان کو جنگ بندی میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم اس معاملے کو بھی حل کر لیا جائے گا۔دوسری جانب اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کے خاتمے اور لبنان میں حزب اللہ کے اثر کو ختم کرنے تک اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، جس سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔