اسلام آباد( ترکیہ خبر) وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ تمام سرکاری اور نیم سرکاری ادارے ہر سال اپنی سینیارٹی فہرستیں تازہ کرکے عوام کیلئے جاری کریں گے۔عدالت کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سینیارٹی فہرستیں خفیہ نہیں رکھی جا سکتیں اور ہر ادارے کو انہیں اپنی ویب گاہ پر شائع کرنا لازمی ہوگا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ہر سال جنوری میں فہرستیں نئی معلومات کے ساتھ جاری کی جائیں، جبکہ نئی بھرتیوں، ترقیوں یا مستقلی کے بعد بھی فوری تبدیلی کی جائے۔فیصلے کے مطابق ایک ہی اشتہار اور ایک ہی مرحلے میں بھرتی ہونے والے ملازمین کی سینیارٹی صرف میرٹ کی بنیاد پر طے ہوگی، نہ کہ پہلے ملازمت سنبھالنے کی بنیاد پر۔ عدالت نے واضح کیا کہ پہلے آنے والے کو ترجیح دینے کا اصول انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔عدالت نے کہا کہ سینیارٹی فہرست تک رسائی ہر شہری اور ملازم کا بنیادی حق ہے اور کوئی بھی ادارہ غیر قانونی شرط لگا کر ملازمین کے حقوق ختم نہیں کر سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے پائلٹ کیپٹن محمد علی خان کی اپیل منظور کرتے ہوئے پورٹ قاسم اتھارٹی کی متنازع فہرست کالعدم قرار دے دی اور نئی درست فہرست جاری کرنے کا حکم دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو صرف ایک دن تاخیر سے ملازمت سنبھالنے کی بنیاد پر جونیئر قرار دینا غیر منصفانہ تھا، حالانکہ وہ میرٹ میں بہتر پوزیشن رکھتے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جوائننگ کی تاریخ کو بنیاد بنا کر کسی ملازم کے حقوق متاثر نہیں کیے جا سکتے۔عدالت نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی جانب سے کئی برس تک سینیارٹی فہرست جاری نہ کرنے پر تشویش کا اظہار بھی کیا اور حکم دیا کہ فیصلے کی نقل چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو فوری عملدرآمد کیلئے بھجوائی جائے۔