قبرص مسئلے کے حل میں ترکیہ اور ترک قبرصی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: جودت یلماز
لفکوشا، شمالی قبرص( تر کیہ خبر) ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز نے کہا ہے کہ قبرص اور مشرقی بحیرہ روم سے متعلق کوئی بھی اقدام ترکیہ کی شمولیت یا ترک قبرصی عوام کے حقوق کو نظر انداز کرکے کامیاب نہیں ہو سکتا۔لفکوشا میں 20 جولائی امن و آزادی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جودت یلماز نے کہا کہ ترکیہ ترک قبرصی عوام کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ان کی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ ایک مادر وطن اور ضامن ملک کی حیثیت سے شمالی قبرص کے عوام کے ساتھ ہے تاکہ ترک قبرصی باشندے اپنی ریاست کے زیر سایہ آزاد، باوقار اور محفوظ زندگی گزار سکیں۔ترکیہ کے نائب صدر نے کہا کہ 1974 کا قبرص امن آپریشن 1960 کے ضامن معاہدے کے تحت ترکیہ کی ذمہ داریوں کی تکمیل تھا، جس کے نتیجے میں ترک قبرصی عوام کے خلاف کئی برسوں سے جاری تشدد کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس کے بعد کئی دہائیوں تک جاری مذاکرات اس لیے کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ یونانی قبرصی فریق اقتدار اور وسائل میں شراکت داری کے لیے تیار نہیں تھا اور نہ ہی ترک قبرصی عوام کو مساوی شراکت دار تسلیم کرنے پر آمادہ ہوا۔جودت یلماز نے کہا کہ عالمی برادری کو اب یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ ترک قبرصی عوام بھی اس جزیرے کے اتنے ہی مالک ہیں جتنے یونانی قبرصی باشندے۔