ترکیہ خبر

ترکی کی قومی سلامتی پالیسی نئی خطرات کے مطابق مضبوط کی جا رہی ہے: صدر اردوان

ترکی کی قومی سلامتی پالیسی نئی خطرات کے مطابق مضبوط کی جا رہی ہے: صدر اردوان

استنبول ( ترکیہ خبر)ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی نے دہشت گردی کو اس کی جڑ سے ختم کرنے کی حکمت عملی کے ذریعے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، خاص طور پر 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد۔صدارتی محل میں قومی سلامتی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد قومی سلامتی پالیسی دستاویز کی بہتر تفہیم کو فروغ دینا ہے، جس میں ملک کو درپیش خطرات اور خارجہ پالیسی کے اہداف واضح کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 15 جولائی 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد ترکی نے اپنی سلامتی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے خطرات کو ان کی اصل جگہ پر ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔صدر اردوان کے مطابق اس پالیسی کے تحت ترکی نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مختلف محاذوں پر کارروائیاں کیں اور جنوبی سرحدوں کے تحفظ کے لیے سرحد پار آپریشنز بھی کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ عراق اور شام کے سرحدی علاقوں میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں نے ترکی کی خود مختار فیصلہ سازی کی صلاحیت کو ثابت کیا اور ایک نئے سکیورٹی دور کا آغاز کیا۔صدر اردوان نے کہا کہ یہ اقدامات ریاستی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور نئے خطرات کی درست شناخت کے لیے اہم ہیں، تاکہ ملک کی سلامتی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔انہوں نے ترکی کی طویل ریاستی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ کے قومی نشان میں 2200 سال کی تاریخ کے دوران قائم ہونے والی 16 ریاستوں کی جھلک موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ترک قوم نے یورپ سے وسطی ایشیا، قفقاز سے افریقہ تک وسیع خطوں میں ریاستیں قائم کی ہیں، اور موجودہ جمہوریہ ترکیہ اس طویل ریاستی تسلسل کا تازہ ترین مرحلہ ہے۔